مہاراشٹرا ،ممبئی

سپریم کورٹ آف انڈیا نے بی ایس ایف نوجوان کو راحت دی،اہل خانہ کے ساتھ آبائی گاؤں میں رہنے کی آزادی


ممبئی 16/ستمبر: سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج پاکستان کے لیئے مبینہ جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار ایک مسلم فوجی نوجوان کو راحت دی اور ضمانت کی شرائط میں سہولت دیتے ہوئے اسے اس کے اہل خانہ کے ساتھ آبائی گاؤں میں رہنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس پاردی والا نے ضمانت کے حکم میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ ملزم ضمانت ملنے کے بعد سے پنجاب میں ہی ہے اور ٹرائل پر ہائی کورٹ کا اسٹے ہے لہذا ملزم کو اس کے آبائی شہر لاتور میں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے بشرط کہ وہ ٹرائل کورٹ میں مقدمہ کی سماعت پر حاضر رہے گا۔واضح رہے کہ دو سال قبل جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ملزم کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کی گئی تھی جسے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منظور کرلیا تھا لیکن ملزم کے پنجاب چھوڑنے پر پابندی لگادی تھی۔آج عدالت میں ملزم ریاض الدین کے دفاع میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے بحث کی جبکہ ان کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ مجاہد احمد موجود تھے۔

عیاں رہے کہ ملزم ریاض الدین شیخ جو ہندوستانی فوج کے شعبہ بی ایس ایف میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا کو نومبر 2018 میں پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور اس کے بعد اسے ملازمت سے فوراًمعطل کردیا گیا تھا۔

ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے اس کی ضمانت پر رہائی کی بہت کوشش کی لیکن انہیں کامیانی نہیں ملی جس کے بعد نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر حافظ محمد ذاکر صدیقی کے توسط سے ملزم کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے رابطہ قائم کرکے ان سے قانونی امداد طلب کی اور کہا کہ ریاض الدین بے قصور ہے اور اس نے پاکستان کے لیئے کوئی جاسوسی نہیں کی ہے اور وہ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ایک ایماندار فوجی ہے۔ قانونی امداد کی درخواست کو قبول کرنے کے بعد جمعیۃ علماء نے ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ملزم کی ضمانت پررہائی کے لیئے کوشش کی اور جمعیۃ علماء کی کوششوں کے نتیجے میں پہلے سپریم کورٹ سے ضمانت ملی پھر اب ضمانت کی شرائط تبدیل کرکے ملزم کو راحت دی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button