اہم خبریںبہار

دربھنگہ و مضافات میں سرگرم پراسرار لٹیری حسیناوں سے لوگ پریشان، ایک صحافی بھی ہوئے ان کے شکار

دربھنگہ (محمد رفیع ساگر /قومی ترجمان بیورو) دربھنگہ و مضافات میں ان دنوں لوگوں کو مختلف انداز سے لوٹنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تاہم لوٹ ایسی کہ لوگ پولیس میں شکایت کرنے تک بھی نہیں پہنچ پاتے ۔جب لوگ لوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ خاموشی سے سر پیٹتے رہتے ہیں اس طرح کی کچھ شکایات دربھنگہ اور شکری ریلوے اسٹیشن کے قریب سے لگاتار موصول ہو رہی ہیں۔جانکار بتاتیں ہیں کہ پراسرار طور پر خوبصورت دوشیزائیں سڑک کے سنسان جگہ پر مدد مانگنے کے نام پر کھڑی ملتی ہیں لیکن کوئی ثبوت یا سرکاری شکایت نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ پولیس کے سامنے نہیں آ سکا ہے۔

جمعہ کے روز ایک مقامی صحافی کے سوجھ بوجھ سے ایسی لٹیری حسیناوں کا پردہ فاش ہوا ہے جو خود کو راجستھان کی بتاتی ہیں اور لوگوں سے مدد کے نام پر موقع ملتے ہی اس کے پاس موجود نقد چھین لیتی ہے۔بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے روز اسی طرح کا واقعہ لہریا سرائے ضلع ہیڈ کوارٹر کے آدرش مڈل اسکول کے قریب پانی ٹنکی کے سامنے آیا ہے ۔جہاں خوبصورت اور مہذب نظر لڑکیاں رکشہ پر بیٹھی تھیں اور وہاں سےآنےجانے والے اکیلے شخص کو دیکھ کر وہ انہیں قریب بلاتی اور پھر پیسے مانگتی۔ اگر کوئی شخص اسے کم رقم دیتا تو اسے پکڑ لیتی اور زبردستی جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی دوران ایک مقامی نوجوان صحافی موٹر سائیکل سے گزر رہے تھے۔ انہیں لڑکیوں نے بلایا اور خود کو ضرورت مند کہہ کر رقم کا مطالبہ کیا ۔مذکورہ صحافی نے دس روپے دیئےلیکن دس روپے دیکھ لڑکیاں ناراض ہوگئیں اور برا بھلا کہنے لگیں اور صحافی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا پرس نکالو اگر پرس نہیں نکالا تو شور مچاؤنگی۔اس پر صحافی نے اپنا تعارف کرایا۔ رپورٹر کی بات سن کر لڑکی نے فوری اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ لیکن متاثرہ صحافی اس سڑک سے گزر رہے راہگیر اور پولیس کی گاڑی کو دیکھ کر آواز لگائی اور موقع پر لوگ جمع ہوگئے۔جہاں کئی افراد نے لڑکیوں کے کرتوت کا انکشاف کیا۔


جب دونوں لڑکیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تو انہوں نے اپنا دکھ سنانا شروع کردیا۔ اس نے خود کو راجستھان کی رہائشی بتایا۔ایک نوجوان خاتون نے بتایا کہ اس کے بچے اسٹیشن پر ہیں اسی لئے وہ لوگوں سے مدد مانگ رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ راجستھان سے دربھنگہ مدد کے لئے آئی ہے جب لوگوں نے راجستھان سے دربھنگہ آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ بس یہی کہتی رہی کہ وہ پریشانی میں ہے ، وہ یہاں مدد مانگنے آئی ہے۔ وہاں کھڑے پولیس اہلکار نے دونوں لڑکیوں کو دوبارہ ایسا نہ کرنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے وہاں سے جانے کو کہا تب جاکر دونوں لڑکیاں وہاں سے نکل پڑی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button