“خان سر” (پٹنہ) عقل کے ناخن لو اور اسلام کے ساتھ کھلواڑ نہ کرو

تحریر :محمد امثل حسین گلاب مصباحی

ہماری عادت نہیں ہے کہ کسی مفسد کا نام لے لے کر بھری بزم میں اس کی اصلاح کریں، مگر کیا کریں، بعض مواقع پر کسی بے حیا اور آستین کے سانپ کا نام لینا ہی پڑتا ہے، اسلام کے خلاف زہر اگلنے والے، طرح طرح کی چال چل کر مذہب اسلام کو بدنام کرنے والے اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے شخص کے مکر و فریب سے لوگوں کو بچانے کے لیے کبھی کبھی اس کا نام لینا ناگزیر ہوجاتا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ اگر یہ تحریر اس تک پہنچے گی، تو اس پر سخت ناگوار گزرے گی، مگر ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں، اس کی ناگواری جائے۔۔۔ میں۔ مطلب وہ ہمارے اسلام کو بدنام اور کمزور کرنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چل رہا ہے، برسوں سے اس پر محنت کر رہا ہے، اور ہمیں اس کی ناگواری کی فکر ہو، یا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا بن کر بیٹھے رہیں، اس کو جواب نہ دیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ذیل کی تحریر غور سے پڑھیے اور اس شیطان نما خان کے مکر و فریب سمجھ کر لوگوں کو اس سے بچائیے۔
“خان سر پٹنہ والے” اس نام کا ایک شخص ہے، اس کے اپنے کئی ایک یوٹوب چینل ہیں، لاکھوں کی تعداد میں اس کے سبسکرائبر ہیں، فیسبوک اور ٹوئٹر پر بھی “خان سر” نام سے اس کے اکاؤنٹھ اور ہزاروں کی تعداد میں اس کے فالوورس ہیں۔ اس کو بعض جدید دنیوی علوم میں اچھی خاصی مہارت حاصل ہے، اس کو افہام و تفہیم کا گویا ملکہ حاصل ہے، یہ بڑی مشکل اور پیچیدہ باتوں کو چٹکی میں سمجھا دیتا ہے۔ ان چیزوں کی بنا پر ملک و بیرون ملک میں عوام الناس نیز خاص کر اسکول اور کالج کے طلبہ اسے بہت چاہتے ہیں۔ یہ کیا کرتا ہے کہ حالات کے مطابق اپنی معلومات اکٹھا کرتا ہے، اپنی تحقیات جمع کرتا ہے، ابحاث کے مطابق موزوں مثالوں اور تصویروں کا انتخاب کرتا ہے، پھر ایک زبردست ویڈیو بناتا ہے، اور اسے یوٹوب اور فیسوب وغیرہ پر ڈالتا ہے، چوں کہ یہ بولنے اورسمجھانے میں ماہر ہو چکا ہے، اس لیے اس نے بہت سارے لوگوں میں خاص کر اندھ بھگتوں میں کافی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔

بہر حال اب اس ضمیر فروش کی داستان سنیے۔عموماً یہ بالواسطہ اسلام اور اس کی تعلیمات پر حملہ کرتا ہے، جب کہ بسا اوقات براہ راست اسلام کے خلاف زہر اگلتا ہے۔ بالواسطہ اس طور پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سیاسی اعتبار سے اسلامی ممالک کے وزرا، حکام، عملہ، ان کے طریقۂ کار، آپسی تعلقات، ان کی تنظیمات و تحریکات، پھر ان کے نظریات اور ان کے معاملات کو لیتا ہے، ان کے اندر جو کمی ہوتی ہے، ان کی آپس میں جو کشیدگی ہوتی ہے، ان کی جو خامی نظر آتی ہے، ان کا جو کام غلط ہوتا ہے، ان کا جو نظریہ فاسد ہوتا ہے، ان ساری چیزوں کو یہ شیطان اسلام سے جوڑ دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ دیکھو: یہ اسلام ہے، یہ اسلامی تعلیمات و نظریات ہیں، یہ اسلام کے ماننے والے ہیں۔(یا اللہ اس ظالم کو راہ حق کی ہدایت دے، یا اسے اس کے کیفرکردار تک پہنچادے۔ آمین)

اس شیطان کی مزید شرارت دیکھیے۔ یہ بعض اسلامی ممالک کے حکام و سربراہان مثلاً طیب اردگان اور حسن روحانی وغیرھما کی تصویر سامنے رکھ کر ان کو کیا کچھ نہیں کہتا ہے، ان کو گالیاں تک دیتا ہے، (اے کاش کہ اس کی ان کو خبر ہوجاتی) عمران خان کو لے بھی یہ اسلام پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ شیطان نما خان کسی نے بھوجپوری سنگر گرل کے ساتھ جس کے جسم کا اکثر حصہ کھلا ہوا تھا، تمہاری تصویر ایڈیٹ کر دیا تھا، تو تمہیں کتنا برا لگا تھا، کتنا غصہ آیا تھا، تمہارا دماغ کتنا گرم ہوا تھا، تم تو اس پر ہتک عزت کا مقدمہ درج کرنے کے لیے آمادہ ہو چکے تھے، تم نے مقدمہ تو درج نہیں کیا تھا، مگر جی بھر گالیاں دے کر اپنی بھڑاس نکال کر یہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ اس قسم کی بےعزتی ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ شیطان نما خان تم اتنے دنوں سے اسلام کا مذاق بنا رہے ہو، سیاسی کمی کو اسلام سے جوڑ دیتے ہو، کیا ہماری غیرت نہیں جاگے گی؟ کیا ہم کو غصہ نہیں آئے گا؟ کیا ہمارا خون گرم نہیں ہوگا؟ کیا ہم برداشت کریں گے؟

اس شیطان نما خان نے براہ راست بھی اسلام پر شدید حملہ کیا ہے۔ اس نے نکاح، طلاق ثلاثہ اور تحلیل وغیرہ کو لے کر ایک ویڈیو بنائی، اتفاق سے میری نظر اس ویڈیو پر پڑی، میں نے اسے دیکھا۔ اس نے نکاح، طلاق اور تحلیل کو لے کر کئی مسئلہ بیان کیا، ایک دو کو چھوڑ کر اس نے سارے مسئلے غلط بیان کیے، (ہم نے کمینٹ میں اس کا جواب بھی دیا تھا) اسلام کے بالکل مخالف بات کہی اور آخر میں بتایا کہ یہی اسلام ہے۔ کیا یہ براہ راست اسلام پر حملہ نہیں ہے؟ اس نے چین کے علما کا مذاق اڑایا اور نقاب پوش عورتوں کی بھی الفاظ میں بے عزتی کی، کیا یہ براہ راست اسلام پر حملہ نہیں ہے؟ اس نے پڑوسی ملک کی کئی ایک اسلامی تنظیم اور کئی ایک جلیل القدر عالم دین اور عاشق رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شدید مذمت کی، ان کو گالیاں دیں، ان کے لیے گندے الفاظ اور بھدے کلمات استعمال کیے، کیا یہ براہ راست اسلام ہر حملہ نہیں ہے؟
اس شیطان کی مزید حد درجہ شرارت دیکھیے۔ ہم آپ آئندہ چیز کے لیے ان شاء اللہ، اچھی چیز یا ماضی کی اچھی بات پر ماشاء اللہ کہتے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں اور ہمارا عقیدہ بھی ہے۔ “جو کچھ ہوا اللہ تعالی ہی کی مرضی سے ہوا، جو کچھ ہوگا اللہ تعالی کی مرضی سے ہوگا۔” جب کوئی مصیبت آتی ہے، تو ہم کہتے ہیں: یہ ہمارے برے اعمال کا نتیجہ ہے، یہ ہمارے کرتوت کے سبب ہے، جب کوئی اچھی چیز ہمیں ملتی ہے تو ہم کہتے ہیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے، یہ اللہ کا فضل و کرم ہے. یہ شیطان نما خان ایک ویڈیو میں کہتا ہے: “اگر تم یہ (مذکورہ باتیں) کہتے ہو، تو ہم بھی کہتے ہیں: ١٩٧١ میں اللہ نے حملہ کروایا، (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)، یہ سی اے اے اور این آرسی اللہ کی وجہ سے آیا، یہ کرونا وائرس بھی اللہ کی وجہ سے آیا،” اور بھی بیہودہ باتیں اس نے کہی، ہم وہ تحریر نہیں کر سکتے۔ یہی نہیں ایک جگہ اس نے اللہ سبحانہ و تعالی کی شان میں ایسا نازیبا کلمہ استعمال کیا کہ مسلم تو دور کی بات، ایک کٹر کافر بھی ایسا لفظ اللہ تعالی کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ معاذ اللہ۔ پھر ایک جگہ کہتا ہے کہ ہم نے کسی کا قتل کر دیا، تو یہ بھی اللہ نے کروایا ہے۔ ایک جگہ کہتا ہے کہ جب سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، تو اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ تو ہم اپنی مرضی سے اٹھائے ہیں کہ یہ بھی اللہ کی مرضی سے اٹھا ہے۔ معاذ اللہ* ( خبیث کے اس سوال کا تفصیلی جواب ان شاء اللہ دو تین دن میں تحریر کردوں گا، کل سے میری صحت بحال نہیں ہے، پھر بھی تین دن کے اندر اس کا مدلل جواب تحریر کروں گا۔ ان شاء اللہ)

شیطان نما خان! ہوش میں رہو، ہم جانتے ہیں کہ تم کتنے پانی میں ہو، جوش شہرت میں حد سے تجاوز نہ کرو، اسلام کا مذاق اڑانا بند کرو، علما کی بے عزتی کرنا بند کرو، نقاب پوش عورتوں کی ہنسی نہ اڑاؤ، اسلام کے قانون طلاق ثلاثہ اور تحلیل کا تمسخر نہ کرو، اسلامی تعلیمات کا ٹھٹھا نہ کرو، ورنہ تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، آج اندھ بھکتوں کو خوش کرنے کے لیے تم اسلام کا تمسخر اڑا رہے ہو، آئندہ کل یہ تمہیں بہت مہنگا پڑے گا۔ ہمیں بھی گالیاں دینا آتی ہے، مذاق اڑانا ہمیں بھی آتا ہے، ٹھٹھا کرنا ہمیں بھی آتا ہے، زبان ہمارے پاس بھی ہے، قلم ہمارے پاس بھی ہے، الفاظ ہمارے پاس بھی ہیں، مگر ہمارا اسلام تم جیسے شیطان کو بھی گالی دینے سے منع کرتا ہے، ہمارے اسلام نے ہمیں حسن تہذیب سکھایا ہے، ہمیں اپنی شریعت کا پاس ہے، ورنہ ہم بھی تمہاری ایسی کی تیسی کردیتے اور تمہارا ہوش ٹکھانے لگا دیتے۔ “تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے، نہ تحریر میں نہ تقریر میں، نہ الفاظ میں نہ بیان میں، نہ علم میں نہ عمل میں۔” اس لیے ہوش میں رہو۔ تمہاری غلط بیانی اور غلط ویڈیو کی وجہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں اندھ بھکتوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے، ان چیزوں کے ذمہ دار تم ہو، اور آج نہ کل تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ تم کیا سمجھتے ہو، کہ ہمارے پاس علم ہے، ہمارے پاس اندھ بھکتوں کی طاقت ہے، ہم تیس مار خان ہیں، ہمارا کون کیا کر لے گا؟ ارے تم کیا تم جیسے ہزاروں لوگ ہمارے علما کی جوتیاں سیدھی کرنے کو اپنی معراج سمجھتے ہیں، تمہارے پاس جس کی بھی طاقت ہو، اور تم تیس نہیں ساٹھ مار خان بن جاؤ، مگر اسلام جیسے کل برحق تھا، ویسا ہی آج برحق ہے، تا قیام قیامت ویسا ہی برحق رہے گا، تم جیسے ہزار آئے اور گئے، آئندہ بھی ہزار آئیں گے اور جائیں گے، مگر اسلام کا نور کبھی مدھم نہیں ہوگا:

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

تمہاری کیا ہمیں کسی کی بھی ویڈیو دیکھنے کی عادت نہیں، کچھ ضرورت تھی، نیٹ پر تلاش کیا، تو تمہاری ویڈیو بھی آگئی، اس طرح دس دس منٹ کے قریب کی تمہاری کچھ ویڈیو دیکھا، تم نے کیا سوچا ہے کہ ہر کوئی اندھ بھکت ہے، یا ہر مسلمان جمن جمعراتی ہی ہے کہ دیکھ کر خوش ہوگا یا خاموشی سے گزر جائے گا۔ نہیں نہیں:
دل ہمارا جذبۂ غیرت کو کھو سکتا نہیں
یاد رکھنا کہ ہم جیسے کروڑوں اسلام کے دیوانے ہیں جو تم جیسے مکار کی عیاری کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اور یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ ہم جیسے گنہ گار کو بھی خدمت اسلام کی توفیق دیتا ہے، ورنہ بہت سارے وقت کے تاجدار کو بھی خدمت اسلام کی توفیق نہیں ملتی۔ شیطان نما خان تم یاد رکھنا کہ جب تک ہمارے جسم کی شہ رگ میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی رہے گا، اس وقت تک خدمت اسلام کے لیے ہمارا قلم بھی تابدار رہے گا اور ہمارا قدم بھی پائیدار رہے گا اور ہم، تم جیسے فتین کی خبر بھی لیتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ
میں اپنے تمام محبین اور جملہ مخلصین اسلام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس شریر کی کوئی بھی ویڈیو ہرگز ہرگز نہ دیکھیں، بہت سے جمن جمعراتی اس شیطان کو خوب چاہتے ہیں، اس کی ویڈیو جم کر لائک اور شئر کرتے ہیں، ان پر سیکولرپنی کا جنون چڑھا ہوا ہے، یہ وہی جمن اور جمعراتی ہیں، جن کے لیے آج سے ایک ماہ قبل بنجلہ دیش کے ١٦ مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں، مگر اِن کو تو سیکولرپنی کا جنون چڑھا ہوا ہے، کیا کیا جائے۔خیر اِن سے بھی گزارش ہے کہ ایسے شیطان کا ہرگز ہرگز ساتھ نہ دیں۔ یہ اہل حق کی جان کا بھی دشمن ہے اور ایمان کے بھی۔

ہمارا کوئی یوٹوب چینل نہیں ہے مگر شیطان نما خان اور اس جیسے کی سرکوبی کے لیے، اس کا دنداں شکن اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے لیے، اس کے جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کے لیے ہمیں بذات خود اس میدان میں قدم رکھنا ہوگا۔ ہم کسی دوسرے پر سوال اٹھانا پسند نہیں کرتے۔ اسلام کے لیے ہم نے کیا کیا، ہم یہ دیکھتے ہیں۔ ان شاء اللہ بہت جلد اس شیطان کے لیے ہم مؤثر تعویذ بھی لکھیں گے اور اس جیسے مریض کا کارگر علاج بھی کریں گے۔ اللہ تعالی اس شریر کو راہ حق کی ہدایت دے، اس پر اسلامی تعلیمات اور اس کے منافع روز روشن کی طرح عیاں فرمادے، اس کے شکوک و شبہات زائل فرمادے اور اس کے ذریعہ اسلام کو قوت بخشے اور اگر وہ اس لائق نہیں ہے، تو اسے کیفرکرادر تک پہنچادے کہ دوسروں کے لیے عین عبرت بن جائے اور اس کی تحریر و تقریر سے جو لوگ اسلام کے خلاف یا مزید خلاف ہوگئے ہیں، انھیں اسلام سے قریب کرنے کے لیے کسی ایسے شہزادۂ اسلام کا انتخاب فرمادے جس کی تحریر و تقریر سے متأثر ہو کر ان سے زیادہ تعداد میں لوگ اسلام کے قریب ہوجائیں ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیة و التسلیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں