بین ریاستی خبریں

بیت العلوم سرائے میر کے عظیم سپوت مولانا حبیب الرحمن اعظمی قاسمی نے رخت سفر باندھا

تحریر : ✍️ حضرت مولانا عبد الرشید صاحب المظاہری شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ یوپی

آج شب ١٢ بجے کےقریب بستر پر لیٹا تو ذہن و دماغ میں مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی القاسمی سمائے رہے، دیر تک نیند نہیں آئی؛ حتی کہ ان پر کچھ لکھنے کا تقاضا ذہن میں تیز ہوتا چلا گیا، اس وقت خاصہ مضمون ذہن میں گشت کر رہا تھا اور طبیعت پر بوجھ نہ تھا؛ مگردن میں کافی دیر تک بیٹھا رہ گیا تھا اسلئے احتیاطاً سونے ہی کی فکر میں رہا، نیند تو آگئی؛ مگر دماغ ان کے تصور سے خالی نہ رہا ان کا چہرہ داڑھی پان سے لال پتلے پتلے خوبصورت ہونٹ ان کی مسکراہٹ انداز تکلم سب نگاہوں میں پھرتا رہا؛ چونکہ اہل علم و دانش لکھتے رہتے ہیں اور لکھا بھی اس لئے کچھ لکھا نہ تھا؛ لیکن اب شدت تقاضا کی بناپر قلم اٹھا لیا خیال ہے کہ اختصار کروں جس قدر قابو ہوگا ان شاءاللہ ملحوظ ہوگا۔
اطلاع ملی کہ حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب بیمار ہیں پاس بیٹھے ہوئے شخص مولوی سلمان نے بتلایا کہ صحت ہورہی ہے، اچھے ہیں میرے دماغ میں بسا ہوا تھاکہ مولانا دیوبند میں ہیں ایک روز بہ وقت افطار میں نے اپنے اس مزعومہ کی بنا پر کہاکہ مولانا ہوشیار ہیں لگتا ہے؛ وہیں رہنا چاہتے ہیں ٢٩/رمضان کو میرا پوتا مولوی عبد السلام سلمہ سحری لیکر آیا اور کہا کہ مولانا حبیب الرحمن صاحب طاہر میموریل میں بھرتی ہیں اور تصویر دکھائی خود مست سوتا ہوا دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی
کہ بیماری میں کس قدر آرام سے سورہے ہیں اور کتنے اچھے لگ رہے ہیں ہمارے اس حلقہ میں رمضان میں فجر اول وقت میں پڑھ کر سونے کا عمومی معمول ہے ١٠/بجے کے آس پاس مولوی عبید الرحمن کو فون لگایا کامیابی نہ ہوئی بھائی فیضان کو لگایا آواز صاف نہ ملی مولوی نسیم احمد صاحب کو لگایا انہوں تفصیل بتائی کہ گھر پر علاج ہورہا تھا ، کل مغرب کے بعد طاہر میموریل میں داخل کردیے گئے ہیں آرام ہے وہ دن گزر گیا میری اور میرے بچوں کی ملاقات کی تمنا رہی، مولوی عبد القادر سلمہ نے کہاکہ میں کل جاؤں گا؛ مگر حالات نامساعد مولوی نسیم احمد صاحب جگدیش پوری کا فون آیا کہ حضرت مولانا دنیا میں نہ رہے ابھی خبر آئی ہے غالباً گھڑی میں ١/١٠ منٹ ہورہاتھا پھر کچھ دیر کے بعد جنازہ اور تدفین کی اطلاع آئی ٣٠/رمضان کو انتقال ہوا اور لیلة الجائزہ میں ٩ بجے جنازہ باہر لاگیا مولانا کے پوتے مولوی عفان سلمہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔
جس دن انتقال ہوا ، اس دن میرے لڑکے مولوی عبدالقادر سلمہ نے خواب دیکھا اس سے کہہ رہے ہیں سورہ بقرہ پڑھ اس نے پڑھا ؛ پھر پڑھوایا جب اولیٔک ھم المفلحون پر پہونچا تو کہا اب سورہ یسین پڑھ, سورہ یٰسین پڑھتے ہوئے؛ جب انماامرہ اذا اراد شیئا الخ پر پہونچا تو روح پرواز کرگئی اسی شب بہ وقت سحر صاحبزادہ محترم مولوی عبید الرحمن سلمہ نے خواب دیکھا کہ دو سفیدپوش آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مولانا کو لینے آئے ہیں۔
مولوی عبید الرحمن جھٹ مولانا کاکمرہ کھولا تو یاد آیا کہ ابا تو پھولپور ہیں پھر سحری لیکر اسپتال چلے گئے دن میں طبیعت میں تغیر ہوا
حضرت مولانا آخر میں ہوش وحواس کی درستگی کے ساتھ تسبیح اور کلمہ پڑھتے ہوئے رخصت ہوئے اور جگدیش پور نہر کے متصل دکھنی قبرستان میں اپنے والد حافظ انوار الحق صاحب کے بازو میں محشر تک کیلئے آسودہ خاک ہوئے ! وہیں قریب میں مولانا افتخار صاحب بھی آرام فرماہیں ان شاء اللہ ساتھ ہی اٹھیں گے خدارحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
اللہ تعالی حضرت کو کروٹ کروٹ سکون نصیب فرمائیں، درجات عالیہ سے نوازیں پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرمائیں۔
مولانانے مدرسہ روضۃ العلوم پھولپور اور برئی پور اور امداد العلوم جگدیش پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر مدرسہ بیت العلوم میں متوسطات پڑھ کر اس وقت کی مشہور درسگاہ دارالعلوم مئو میں مشکوة تک پھر دورہ حدیث شریف دارالعلوم دیوبند میں پڑھا ؛ پھر مدرسہ قرآنیہ جون پور قاسم العلوم منگراواں جامعہ اسلامیہ بنارس میں پڑھایا کچھ دنوں مدرسہ روضۃ العلوم پھولپورمیں بھی رہے۔
جامعہ اسلامیہ میں آپ کی قوت استعداد کاشہرہ ہوگیا تھا ؛ پھر دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں انتالیس سال میں مختلف کتابیں پڑھائیں؛ بالخصوص مشکوة شریف،مسلم شریف، ابوداؤد شریف وغیرہ۔
تصنیف وتالیف میں اللہ تعالی نے یدطولی عطا فرمایا تھا ،حدیث تفسیر، تاریخ اورجملہ علوم میں ماہرتھے دارالعلوم دیوبند کے اندر طلبہ کے محبوب استاد تھے ؛ وہاں کے طلبہ جلدی کسی کو لوہا نہیں مانتے،
درس و تدریس، تصنیف وتالیف آپ کا مخصوص مشغلہ تھا مطالعہ کا انہماک ضرب المثل تھا کتابوں ہی کے درمیان سوتے جاگتے تھے۔
ماہنامہ دارالعلوم کے ایک مدت تک ایڈیٹر رہے، متعدد کتابوں کے آپ مصنف تھے، ان میں تذکرہ علماء اعظم گڑ ھ بڑی جانفشانی سے لکھا، اس وقت جبکہ سواریوں کی اس قدر سہولت نہ تھی دیہات دیہات اور شہروں اور قصبات میں پہنچ کر تحقیقات کا کام کیا طبع وترتیب ثانی میں کچھ تحریرات بندہ کے بھی حوالہ کیاتھا طباعت کے بعد بندہ نے اور مفتی عبد اللہ صاحب نےمتعدد نسخے منگوائے تو لوگوں کے سامنے بہت خوشی کا اظہار کیا۔
جب رسالہ "کب حدیث حجت نہیں” لکھا تو مولوی نسیم احمد جگدیش پوری کے ذریعہ میرے پاس بھیجا اور کہاکہ وہ پڑھ لیں تو مفتی عبد اللہ صاحب کو دیدینا اور کہا کہ میرے پاس کتاب ختم ہے پھر دوبارہ طبع ہوئی تو میرےپاس ارسال فرمایا جزاہ اللہ احسن الجزاء۔
مدرسہ بیت العلوم کے اساتذہ میں شیخ المشائخ حضرت اقدس الشاہ مولانا عبد الغنی صاحب پھولپوری، حضرت مولانا عبد القیوم صاحب، حضرت مولانا مفتی سجاد صاحب اور حضرت مولانا سعید صاحب اور میرےوالد بزرگوار حضرت مولانا ولی محمد صاحب رحمھم اللہ ہیں مولانا عبد الحق صاحب سے غالبا مئو میں پڑھا تھا۔
حضرت مولانا ذکر واذکار کے بہت پابند تھے قیام جگدیش پور کے زمانہ میں بیشتر وقت مسجد میں گزرتا تھا یا فیضان احمد صاحب کے دروازے پر حضرت مولانا سے محبت بچند وجوہ تھی یہاں کے طالب علم تھے، اس وقت جب آتے تو حبیب الرحمن بھائی کہے جاتے تھے ،میرے والد صاحب کے شاگرد تھے ہمارے اساتذہ کرام کے شاگر دتھے؛ یہاں کے جلسوں میں شرکت فرماتے تھے مدرسہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر کے عظیم سپوت تھے۔
رجب ١٤٤٠ھجری میں ختم بخاری شریف کے موقع سے تشریف لائے اولاً حدیث مسلسل بالاولیہ پڑھی سند بیان کیا سب کو اجازت دیا پھر بخاری آخری باب پر مبسوط تقریر فرمائی ، کل ایک گھنٹہ اطمینان سے بولے۔
بقیہ اساتذہ کرام کا علم نہ ہوسکا البتہ بخاری شریف حضرت مولانا فخر الدین صاحب سےپڑھی جمیعۃ علماء ہند کے مقبول رکن تھے، جمیعۃ کی بہت سی تحریریں مولانا کے قلم سے وجود میں آتی تھیں۔
عید کے بعد حضرت مولانا مفتی سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کے واسطے مولانا عبد الحق صاحب، مولانا افتخار صاحب، مفتی منظور احمد صاحب ساتھ تشریف لاتے کبھی سب ساتھ ہوتے اورکبھی بعض نہ ہوتے قاری ابوالحسن صاحب اعظمی بھی میرے والد صاحب کے شاگردوں میں ہیں انہوں نے تاریخ پیدائش ١٩٤١ لکھاہے بعض نے ١٩٤٢ مطابق ١٣٦٢ بتایا ہے اس لحاظ سے مدة العمر اسی سال ہوتی ہے،
افسوس مدرسہ بیت العلوم کا عظیم سپوت ہمارے درمیان نہ رہا؛
آخر میں عرض ہیکہ حضرات علماء کرام کی قدر ان کی حیات میں کریں بعد مرثیہ خوانی کے سوا اور کیا کرسکیں گے وفقنا اللہ وایاکم
آخر میں مولوی عبید الرحمن صاحب اور حافظ عبد الرحمن صاحب اور حضرت کی اہلیہ محترمہ وجملہ اہل خانہ وبنات صالحات کی خدمت میں اور مولانا کے تمام شاگردوں اور اکابر دارالعلوم دیوبند حضرت مہتمم صاحب اور حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب اور اہل علم کی پوری برادری کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتاہوں اور حق تویہ ہیکہ میں خود تعزیت وتسلی کا محتاج ہوں
اللہ تعالی سب صبر جمیل عطاء فرمائیں اور مولانا کے نقوش خیر کو تاقیامت تابندہ فرمائیں
ان للہ مااخذوللہ مااعطی وکل ذلک عندہ باجل مسمی فلتصبر ولتحتسب اللہم عندک احتسب مصیبتی فأجرنی فیہاوابدلنی خیرامنھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button