سمستی پورفکر و نظر / مضامین و مقالات

ایک جیت کے خمار میں مارے گئے ہیں ہم

چودھری عدنان علیگ

آج جب مسلم تہذیب و شناخت اور اس کے شعور و عمل کو ہر سطح پر سبوتاژ کرتے ہوئے آرتھوڈاکس کمیونسٹ، ھندوتوا لبرل اور ڈاکنسٹ ملحد,ہاتھ سے ہاتھ ملائے نظر آتے ہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ مسلمان آپسی اتحاد و اتفاق پر زور دیں، کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے، آج ایک طرف جہاں آر ایس ایس اپنی مذہبی قدامت پسندی اور پرانی روایات کی تشہیر کررہی ہے، وہی دوسری طرف نیوز چینلس، فلمیں اسلام مخالف پروپیگنڈں کے ذریعہ ھندی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور زہر اگلنے میں مصروف ہیں

نیوز چینلس نفرت اور زہر افشانی کرکے مسلمانوں کے مستقبل کے لیے گہری تاریک خندق کھود رہے ہیں، وہی دوسری طرف ھندوتوا ذھنیت کے غلام اور دہشت گرد عناصر مسلم ویاپار، تاجر اور دکانداروں کے خلاف نفرت انگیز ماحول بنانے میں مصروف ہیں، ھندو اکثریت مسلم مارکیٹ سے خرید و فروخت کرنے سے گریز کررہی ہے، اب آپ خود اپنا مستقبل دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے، یہ تو ٹریلر تھا اصل اسکرین پلے ابھی باقی ہے. منصوبوں اور پروپیگنڈوں کا پلاٹ دیکھ کر آپ اصل کہانی کا کلائ میکس اور معاون کردار بخوبی پہنچانے سکتے ہیں..

افسوس ان لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلمان ہوکر معاون علی الشرک بنے بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن لوگوں نے لبرلزم، سیکولزم اور حب الوطنی کے نام پر پہلے چراغاں کیا اور اب ہولی، دیوالی، نیوراتری جیسے گندے شرکیہ اعمال میں ملوث مشرکین و کفار کی خدمت میں لگے ہوئے تھے، سڑکوں پر شربت کی بارش کررہے تھے، ایسے لوگوں کو بس اتنا سمجھ لینا ہی کافی ہوگا کہ جب بھی آپکے علاقے میں ھندوتوا دہشتگردی کی لپٹیں پہنچیں گی تو آپکو ان لپٹوں میں دکھیلنے والا آپکا پڑوسی کمار، شنکر، وجے ہی ہوگا جسکی کل آپ نے شربت کے ساتھ مہمان نوازی کی تھی

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھائ چارہ کا گیت تو گاتے ہیں لیکن حالات کی نزاکت کو نھی سمجھتے، ہمکو اسپین کی تاریخ پڑھ کر کچھ سبق لے لینا چاہیے کہ کس طرح وہاں دھیرے دھیرے مسلم مخالف سازشوں نے اپنے پنجے جمائے تھے، جسکی عکاسی آج کے ھندوستان کے حالات بخوبی کررہے ہیں،
آپ خود سوچیں کہ سیکولرازم کا بھوت سوار کیے ایک صدی گزر گیی، گنگا جمنی تہذیب کا علم تھامے ایک نسل گزر گیی کیا اب تک آپ کامیاب ہو پائے، پوچھیں خود سے، سوال کیجیے، اپنا احتساب کیجیے، جائزہ لیجیے، اور آج کے سرخ ھندوستان کے سیاہ آئینے میں اپنا مستقبل دیکھیے، میں تو کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو محض مشرکین کی دس منٹ کی جھوٹی تعریفیں بٹورنے کے چکر میں شرکیہ اعمال میں معاون بن جاتے ہیں وہ قابلِ مذمت اور قابلِ توہین ہیں، کیونکہ اسلام میں شرک کی کہیں بھی کسی بھی حالت میں گنجائش نھی، وہ وحدانیت پر قائم ہے اور جو وحدانیت پر قائم ہے وہی دراصل مسلمان اور مومن ہے، اور نصرتِ الہی صرف مومنین کے لیے آتی ہے منافقین اور ایمان فروشوں کے لیے نھی

ایک ایسا وقت جب قوم پر ھند کی زمین تنگ کی جارہی ہے ، مایوسی اور نا امیدی کے بادل اس قدر گہرے ہوتے جارہے ہیں کہ قوم کے باشعور نوجوان معاشی پسماندگی، تعلیمی انحطاط اور ذہنی غلامی کے عادی ہو چکے ہیں ، ایسے وقت میں تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے لوگوں کو متحد ہوکر ایک لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، جس طرح ھندوتوا دہشتگرد نئے نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ اپنے رنگ بدل رہا ہے، ہر دن کی ایک نئ کہانی ہے تو کیا تمام مسلم اسکالرز اور مسلم ائمہ کی ذمہ داری نھی بنتی کہ مساجد کے ممبران سے قوم کے نوجوان کو حالات سے واقف کرائے، مسلم ویاپاری، مسلم تاجروں اور دکانداروں سے زیادہ خریدو فروخت کی ترجیح دی جائے، بزنیس شراکت میں بھی مسلم شریک اور پارٹنر کا تعین ضروری سمجھا جائے، جابس اور روزگار میں مسلم نوجوانوں کو زیادہ ترجیح دی جائے، جب ایک سنگھی ایچ آر (HR) ، ایک سنگھی مینجر مسلم امیدوار کو چہرہ اور نام دیکھ کر رجیکٹ کردیتا ہے تو مسلم مینجر، مسلم ایچ آر کو بھی یہی پالیسی اپنانی چاہیے، کیوں سیکولرازم کا ٹھیکہ تم نے لیا ہوا ہے، کیا ھندو پڑھ لکھ کر متعصب نھی ہوجاتا، کیا ھندو آفیسر بننے کے بعد مسلم مخالف سوچ کا حامل نھی ہوجاتا، تو کیوں مسلمان پڑھ لکھ کر سیکولر بن جاتا ہے، جتنا پڑھتا ہے اتنا ہی لبرل اتنا ہی سیکولر اتنا ہی دینی حمیت سے دور، کیوں؟ کیا خود کو بنا لینا خود کو سیٹل کرلینا ہی اصل زندگی کا مقصد ہے، کیا قوم کی فکر، ملی شعور مولویوں کی ذمہ داری ہے بس؟

جنکے پاس نہ وسائل ہیں نہ طاقت ہے نہ پیسہ، کیوں ہمارا پڑھا لکھا طبقہ، معاشرے میں کامیاب سمجھا جانے والا پروفیشنل طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے منھ پھیرے بیٹھا ہے، کیوں عوام ان کے جوتے نھی مارتی، کیوں لوگ انکو نھی کوستے؟ میرے نزدیک قومی تباہی اور ملی انحطاط کا ذمہ دار قوم کا ہر ایک فرد ہے میں بھی ہوں آپ بھی ہیں، ہماری قوم کا ہر ایک ڈاکٹر بھی ہے ہر ایک انجینیر بھی ہے، ہر ایک بزنیس مین بھی ہے، سب کے سب برابر کے مجرم ہیں، اور اگر ہم نے ابھی بھی اپنی اصلاح نھی کی تو یاد رکھیں کہ ابھی ھندوستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے،مسلم قوم کا مستقبل کیا ہونے والا ہے صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے، امت انحطاط وزوال، اور ذھنی شرودیت ، اور علمی عملی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے، تاریخی اوراق میں صاف لفظوں میں لکھا جائگا کہ جب ھند کی بنجر زمین پر مسلم قوم کو اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت تھی، اس وقت قوم سے پہلے قوم کا کل اثاثہ اور انکی قیادت ذھنی غلامی کے ساتھ ساتھ علمی،عملی پسماندگی کا شکار ہو چکی تھی، علماء وراثت اور جاگیرداری کی خستہ چادر اوڑھ کر افسانوی شتر مرغ کی طرح خود کو روحانیت وتقدس کے لبادہ میں چھپائے بیٹھے تھے.، اور جو لوگ اس وقت روحانیت کے دیوتاؤں کی عظمت گزشتہ اور انکے جھوٹے سرکاری تقدس کی خاطر، متحرک اور فعال نوجوانوں اور اہلِ علم کی فکروں پر بندشیں لگانے کی گھٹیہ کاوشیں کررہے تھے وہی در اصل اپنی اور قوم کی اموات کے محضر نامے پر دستخط کرنے کا کام انجام دے رہے تھے ، یہی سچ ہے یہی حق ہے

اگر اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی فکر ہے تو اس کشتی میں سب کو سوار ہونا پڑیگا، اس نفرت کی جنگ کو متحد ہوکر سب کو لڑنا پڑیگا، ورنہ یاد رکھیں ایک دن نہ آپ بچیں گے نہ آپکی نسلیں اور نہ آپکا رتبہ، نہ آپکی پوزیشن اور نہ آپکی عزت و آبرو، ابھی وقت اشارہ کررہا ہے کہ ایک مضبوط اتحادی فوج کی تشکیل کی جائے ، متحد اور موحد و مومنین بنا جائے، مسلم نوجوان جو دیگر ممالک میں اچھی اور بہترین پوزیشن پر فائز ہیں انکی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی قلمی زبانی علمی اور عملی طاقت سے وہاں کے لوگوں کو ھندوستان کے حالات سے واقف کرائیں، دنیا کو یہاں کی خونریزی، قتل و غارت گری، عصمت دری اور انسانی استحصال سے روبرو کرائیں، ہمارے مساجد کے ائمہ اکرام لوگوں کو یہ تنبیہ کریں کہ جب مسلم رکشہ والوں اور مسلم حجام اور مسلم دکانداروں کا ھندو کھل کر بائیکاٹ کررہے ہیں تو مسلم برادری بھی اپنے آس پاس کے مسلم دکانداروں سے ہی خریدو فروخت کرے، ھندو دہشتگرد اور نفرت کے پجاریوں کا کھلا بائیکاٹ کیا جائے ایک چھوٹا سا سامان بھی ان سے نہ خریدا جائے، ایک حد تک برداشت جائز ہے لیکن حد سے زیادہ ظلم سہنا اور برداشت کرنا خود اپنے اپر ظلم کرنے میں شمار ہوتا ہے، اب یا تو خود کے لیے ظالم بن جاؤ یا نفرت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجاؤ یہ دو آپشن بھی ابھی ہیں ایک وقت بعد یہ آپشن بھی آپ کے بساط سے باہر ہوں گے۔
خدا کرے کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button