دربھنگہ

امیر شریعت کے انتخاب سے قبل مجلس شوری اور ارباب حل وعقد کی ممبر سازی غیر مناسب ہوگی

امیر شریعت کے عہدہ کے لئے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی و مولانا انیس الرحمن قاسمی موزوں شخصیت

مدرسہ ناصر العلوم ناصر گنج نستہ کے ناظم عمومی اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایجو کیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے بانی و صدر مفتی سلیم احمد ناصری کا اظہار خیال

………………………………………

دربھنگہ ۔ (پریس ریلیز ) امارت  شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ ایک ایسی تنظیم ہے جو چند ریاست ہی میں شہرت  نہیں رکھتی ہے بلکہ یہ ہندوستان اورہندوستان  سے بڑھ کر پوری دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ حضرت مولانا سجاد علیہ الرحمہ بانی امارت شرعیہ جس اخلاص  ودردمندی سے اس ادارہ کی بنیاد ڈالی ادارہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور ترتیب واعتدال کے ساتھ کام کررہا ہے۔مذکورہ باتیں سنگھواڑہ بلاک کے مدرسہ ناصر العلوم ناصر گنج نستہ کے ناظم عمومی اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایجو کیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے بانی و صدر مفتی سلیم احمد ناصری نے اتوار کو جاری ایک پریس ریلیز میں کہیں۔انہوں نے کہا کہ امیر شریعت، نائب امیر شریعت ، ناظم عمومی، قاضی القضاۃ مختلف ادوار میں اس ادارہ کو بلندی تک پہنچانے کاکام کیا ہے۔ ماضی کے 5  سالوں میں جب سے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی ؒ کو مکمل کام کرنے کا موقع ملا آپ نے  اس ادارہ کو شان وشوکت کے اعتبار سے آگے بڑھانے کی کوشش کی، اس کے  جتنے بھی شعبہ جات ہیں، اور ذیلی ادارے ہیں ان سب کے لئے
یکے بعد دیگرے دھیرے دھیرے نئی نسل کو سپرد کرنے کی کوشش کی اور تمام اداروں کے نظام کو مضبوطی کے ساتھ بہتر نتائج کے حصول کے لئے کام کیا اور تنظیمی اعتبار سے  ادارہ کو محلہ کی سطح تک منظم لڑی بنانے کا کام کیا تاکہ یہ ادارہ تنظیمی اعتبار سے ایک نہایت ہی منظم ادارہ بن سکے لیکن آپ درمیان میں ہی داغ مفارقت دے گئے  ، اللہ آپ کو جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرے آمین۔ مفتی سلیم احمد ناصری نے کہا مرحوم ولی رحمانی جیسی شخصیت ابھی بہار اڑیسہ جھارکھنڈ  میں نہیں ہے لیکن آپ نے جس انداز سے مختلف کام کیا اور آپ پہلے  امیر شریعت، ناظم عمومی وغیرہم نے کام کیا مستقبل میں ہونے والے امیر شریعت سے یہی امید ہے۔ اب ہم رونے   پیٹنے کی جگہ اس دور کے  جو علمائے عظام ہیں انہی میں سے ایک کوامیر شریعت منتخب کرکے کام کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا جہاں تک اس ادارہ کے امیر شریعت کی بات ہے  اس کے اہل دو شخصیات ہیں جو تقریباً چالیس سالوں سے اس ادارہ سے جڑے ہوئے ہیں ان میسے پہلا نام مولانا خالد سیف اللہ  رحمانی کا ہے،آپ کی شخصیت کوئی  محتاج تعارف نہیں ہے عالمی سطح پر آپ مشہور ومعروف ہیں علم وتقویٰ میں منفرد شناخت رکھتے ہیں اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی علیہ الرحمہ جنہوں نے امارت شرعیہ ،مسلم پرسنل لا بورڈ ، آل انڈیا ملی کونسل، اسلامک فقہ اکیڈمی کو بیک وقت عظیم  نتائج کے ساتھ آگے بڑھانے کاکام کیا ، ان اداروں کو روشن مینار بنایا جس کا منکر سورج پر تھوکنے کا مترادف ہے۔ آپ ہی کے برادر زادہ  ہیں جو ان اداروں سے بچپن ہی سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن آپ میں اتنی تواضع و انکساری ہے کہ بالکل کنارے رہتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
دوسری شخصیت امارت شرعیہ سے جڑی ہوئی مولانا انیس الرحمن قاسمی مدظلہ العالی ہیں ، آپ علم وتقویٰ کے ساتھ تنظیمی صلاحیت  کے مالک ہیں اور اس ادارہ میں مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ جو بانی امارت کے  حقیقی سچے وارث تھے، کے ساتھ اور آپ کے دائیں وبائیں عضو قاضی مجاہدالاسلام قاسمی علیہ الرحمہ اور مولانا نظام الدین علیہ الرحمہ کے ساتھ وقت گزارا ہے اور امارت شرعیہ  کے قاضی ، ناظم رہے ہیں اور 40  سال تک انتہائی سنجیدگی ومتانت کے ساتھ کام کرتے رہے  اور امارت شرعیہ میں ریٹائرمنٹ کی عمر ہے۔ جب آپ اس عمر میں پہنچے تو آپ کو ریٹائر کردیا گیا۔میں نے بھی 2  سال امارت شرعیہ میں افتاء وقضا کی ٹریننگ لی ہے۔ اس دوران میں نے حضرت کو دیکھا ، میں نے  آپ جیسا ناظم عمومی دوسرے ادارے میں نہیں دیکھا۔ ایک خصوصیت یہ ہے کہ جو بھی آپ  سے ملنا چاہے وہ مل سکتا ہے،  اور بلاتکلف گفتگو کرتے ہیں اور جو کام مل جاتا ہے اس کام کو بغیر کسی رکاوٹ کے وہ کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ آپ انتہائی سنجیدہ مزاج کے حامل ہیں اور امارت شرعیہ کا 40 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر شریعت کے لئے سب سے موزوں شخصیت آپ کی ہے، دوسری اہم بات یہ ہے کہ نائب امیر شریعت کی  ذمہ داری بنتی ہے کہ سابقہ اصول ودستورہی کی روشنی میں کوی کام کریں تیسری اہم بات ابھی خالی جگہ پر نہ کسی کو ارباب حل وعقد کا ممبر بناییں نہ ہی مجلس شوری کا ایسا کرنے سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ نایب امیر شریعت خود کو امیر شریعت بنانا چاہتے ہیں یا صاحب زادہ  امیر شریعت  سابع کو اس لیے اس سے گریز کیا جاے
چوتھی اہم بات مجلس شوری کا أن لائن اجلاس اس مقصد سے کرنا کہ کمیٹی بنا کر کسی فیصلہ کو لیا جائے یہ قطعاً نا انصافی ہوگی
پانچویں اہم بات سابقہ مجلس شوریٰ کی تجویز سوشل میڈیا و پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے تعلق سے اس وقت بہتر ہوگی جبکہ اقتدار اعلی بھی ایسا موقع فراہم نہ کرے
چھٹی اہم بات امیر شریعت بننے کے لیے جو بھی لابنگ کرے وہ انتہا ی مذموم عمل ہے ارباب حل و عقد پر دباؤ بنانا یہ بہتر نہیں ہے ہر ممبرممبران تک یہ بات پہنچا نی چاہیے کہ بانی بانیٴ امارت شریعہ نے امیر شریعت کے لیے کیا اوصاف منتخب کیے ہیں ان اوصاف کو سامنے رکھ کر انتخاب کریں جیسا کہ اخبارات سے یہ بات سامنے أی ہے کہ امیر شریعت کے لیے چار نام کافی مشہور ہوے ہیں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی حضرت مولانا شمشاد  رحمانی ڈاکٹر احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت کوئی امیر بہار کا پوسٹ نہیں ہے اس لیے ڈاکٹر صاحب امیر شریعت کے لیے مناسب نہیں ہیں دوسری اہم شخصیت مولانا شمشاد رحمانی  صاحب کی ہے أپ کی شخصیت علما کرام  میں ایسی ابھی نہیں ہے کہ آپ امیر شریعت بنیں۔
انتخاب امیر شریعت  منصفانہ اور دیانتدارانہ ہونا چاہئے اس کے لیے بہار کے دو بزرگ عالم دین مولانا اشتیاق اور مولانا عبدالمنان  راجو پٹی کی نگرانی میں ہو تاکہ علماء میں اختلاف نہ ہو اور امت میں انتشار نہ ہو
ساتویں اور أخری بات امارت شرعیہ کے سو سال انتہائی تابناک رہے ہیں آئندہ سو سال انتہائی فاتحانہ رہے ۔مفتی سلیم احمد ناصری نے رائے دی ہے کہ امیر شریعت مولانا انیس الرحمن قاسمی ہوں أپ کو امارت شرعیہ میں کام کرنے کا چالیس سالہ تجربہ حاصل ہے نائب امیر شریعت کے لئے مولانا شمشاد رحمانی اور مفتی ثناءالہدی قاسمی صاحبان  مناسب ہیں ناظم عمومی ڈاکٹر احمد ولی فیصل رحمانی مناسب ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کو امارت سے ہٹانے کی بھی ضرورت ہے۔امارت میں طویل تجربہ رکھنے والے قاضی حضرات میں سے منتخب کرکے جیسے قاضی وصی یا قاضی سہیل اختر کو نائب ناظم عمومی بنایا جائے اور فہد رحمانی کو مجلس عاملہ کا ممبر بنایا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button