فکر و نظر / مضامین و مقالات

اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ؟؟؟


تحریر : محمد ساحل جمال صدیقی کیسریا بہار

یہ بات بالکل سچ ہے کہ جو شئ سب سے اہم ہوتی ہے اور بلندی کی طرف گامزن ہوتی ہے اور ہر صفات کی حامل ہوتی ہے تو لوگ اسے ذلت وپستی کی طرف ڈھکیلنا چاہتے ہیں؛ اور اس میں عیوب و نقائص افتراء کرکے قیل قال کی بارش ساون کی طرح کرتے ہیں؛ آج دنیا کے ہر گوشے سے دشمنان اسلام کی طرف سے یہ خبر ریڈیو؛ ٹیلی ویژن اور اخبارات کی سرخیوں میں صداۓ باز گشت کی طرح اڑائی جارہی ہے کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہےاس کے اندر تعصب پرستی؛ خود پسندی اور تشدد ہے؛ اور قوم مسلم دہشت گرد ہیں؛

ان معترضین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام ایک پودا ہے جس کی ہرشاخ وٹہنی ایسا راستہ اختیار کئے ہوئی ہے جو ساری دنیا کے انسانوں کیلئے لائحۂ عمل اور قابل تقلید ہےاور جو مالابدمنہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی ہر شاخ اور ہر ٹہنی سے امن و سلامتی اخوت و محبت صلح وآشتی اور مساوات کی "بو” مترشح ہوتی ہے کیونکہ اسلام مشتق ہے امن سے جس کا معنی ہے سلامتی اور مومن مشتق ہے امن سے جس کا معنیٰ ہے امن دینے والا؛ جس مذہب کے معنی ہی میں امن و سلامتی کا مادہ ودیعت ہو وہ مذہب شدت پسند اور دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے

اور جس مذہب کے اصلاح کیلئے ایسا رسول دیا گیا ہو جو سارے جہاں کا درد اپنے سینے میں سموۓ ہوا ہو جو خنجر چلے کسی پر اور تڑپتے ہیں ہم امیر کا صحیح مصداق ہو جو خود اپنے خون کو غیروں کیلئے پانی بنایا ہو اور دوسروں کے عافیت کے خاطر خود بھوکا رہا ہو اور جن کو ایسی کتاب دی گئی ہو جو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتی ہو؛ اور دوسروں پر ظلم کرنے والے کو دردناک عذاب کی خبر دیتی ہو وہ کیسے دہشت گردی کی تعلیم دے سکتا ہےاور اس کے ماننے والے دہشت گرد کیسے ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے درمیان تو تباین کی نسبت ہے جو کسی بھی صورت میں جمع نہیں ہوسکتے

بلکہ مذہب اسلام ہی دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو امن و سلامتی صلح وآشتی اور حقوق کی پاسداری کا درس دیتا ہے جو چمکتے ہوئے سورج کی طرح عیاں ہے اور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں؛ کیونکہ اگر یہ دہشت گرد ہوتا تو فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں سے بدلہ بھی چکا لیتا؛ کیونکہ داعی موجود تھااور مانع مرتفع تھا لیکن اس کے باوجود بھی اسلام نے انہیں اپنی آغوش میں جگہ دیا اور نئ زندگی بخشی اور ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جیسا کہ انسان اپنے سگے بھائی کے ساتھ کرتا ہے؛اور کالے گورے؛ ذات پات کا بالکل اعتبار نہیں کیا بلکہ فرمایا: اِنَّ اَکرَمَکُم عِندَاللٰہ اَتقٰکم؛ اور یہ بتا دیا کہ اگر کسی کو امن و سکون ملے گا تو مذہب اسلام کے دامن میں ہی ملے گا

تنقید حال غیر پر کرنے سے پہلے
خود کو نگاہ غیر سے دیکھا کرے کوئی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button